فضا علی آبدیدہ ہو گئیں، ڈاکٹر نبیحہ کو گلے لگا لیا: حارث کھوکھر تنازع نیا موڑ لے گیا

 

حال ہی میں سوشل میڈیا اور ٹی وی پروگرامز پر ایک نیا تنازع سامنے آیا جس میں حارث کھوکھر، ڈاکٹر نبیحہ اور اداکارہ حارث کھوکھر نے گھر سے نکال دیا، فضا علی آبدیدہ ہو گئیں فضا علی کے نام شامل ہیں۔ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب یہ دعویٰ سامنے آیا کہ حارث کھوکھر نے ڈاکٹر نبیحہ کو گھر سے نکال دیا۔

واقعے کی ابتدا کیسے ہوئی؟

رپورٹس کے مطابق گھریلو اختلافات کافی عرصے سے جاری تھے۔ مختلف بیانات اور ویڈیوز میں دونوں جانب سے الزامات سامنے آئے۔ اسی دوران ایک جملہ بھی وائرل ہوا:
“تمہیں چھوڑوں گی نہیں، غور سے دیکھو”
اس جملے نے سوشل میڈیا پر بحث کو مزید تیز کر دیا اور صارفین نے مختلف آراء دینا شروع کر دیں۔

فضا علی کا ردعمل

اداکارہ فضا علی نے اپنے پروگرام میں اس معاملے پر بات کرتے ہوئے جذباتی ردعمل دیا۔

گفتگو کے دوران وہ آبدیدہ ہو گئیں اور ڈاکٹر نبیحہ کو گلے لگا لیا۔ ان کا کہنا تھا

کہ گھریلو مسائل کو سنجیدگی اور سمجھداری سے حل کرنا چاہیے، کیونکہ ایسے تنازعات نہ صرف خاندان بلکہ بچوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

فضا علی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ کسی بھی معاملے میں ایک دوسرے کی عزت اور ذہنی سکون کو ترجیح دینی چاہیے۔

حارث کھوکھر کا مؤقف

دوسری جانب **حارث کھوکھر** نے اپنے بیان میں الزامات کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گھر میں تمام سہولیات موجود تھیں اور کسی قسم کی کمی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر نبیحہ کا مؤقف

ڈاکٹر نبیحہ  نے اپنی گفتگو میں کہا کہ انہیں ذہنی دباؤ اور مشکلات کا سامنا رہا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بعض اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں جہاں خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

یہ معاملہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے دیکھنے کو ملے۔ کچھ صارفین نے ڈاکٹر نبیحہ کی حمایت کی، جبکہ کچھ نے حارث کھوکھر کے مؤقف کو درست قرار دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے نجی معاملات کو عوامی سطح پر لانے سے پہلے دونوں فریقین کو بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

نتیجہ

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ گھریلو اختلافات کو تحمل اور سمجھ بوجھ سے حل کرنا ضروری ہے۔ عوامی شخصیات کے معاملات اکثر تیزی سے وائرل ہو جاتے ہیں،

لیکن ہر کہانی کے دو رخ ہوتے ہیں۔ ضروری ہے کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تمام پہلوؤں کو دیکھا جائے۔

Leave a Comment